اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے 52ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے تمام برادر ممالک اور پڑوسیوں کے ساتھ مل کر خطے میں امن قائم کرنے کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی حکومت دوسروں کی سلامتی کی قیمت پر پائیدار امن حاصل نہیں کر سکتی۔ ہمارا ماننا ہے کہ خطے کے مسائل خود علاقائی ممالک کو خطے کے اندر ہی حل کرنے چاہییں، اس سے پہلے کہ انہیں دور دراز کی طاقتوں کی جنگوں کا بہانہ بنا دیا جائے۔
عراقچی نے مزید کہا کہ اسی سوچ کے تحت ہم سمجھتے ہیں کہ خطے کے ہر ملک کی سرزمین، فضائی حدود اور بنیادی ڈھانچے کو صرف علاقائی سلامتی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے اور انہیں کبھی بھی پڑوسی ملک پر حملہ کرنے کے اڈے میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہ بات بھائی چارے اور اچھے ہمسایہ تعلقات کے جذبے کے تحت کہہ رہے ہیں۔ ہمارے عوام ایک ہی خطے اور مشترکہ مستقبل کے شراکت دار ہیں۔ ہمارے سامنے انتخاب بالکل واضح ہے: یا ہم مل کر امن قائم کریں گے یا مل کر بدامنی برداشت کریں گے۔ ایران پہلے راستے کو اختیار کرنے کے لیے اپنے تمام برادر ممالک اور پڑوسیوں کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔
عراق اور اسلامی تعاون تنظیم کا شکریہ
ایران کے وزیر خارجہ نے اپنی تقریر میں عراق کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ فؤاد محمد حسین، اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل اسماعیل ولد شیخ احمد اور دیگر شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں سب سے پہلے اپنے پڑوسی اور برادر ملک عراق کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے اسلامی تعاون تنظیم کے اس اجلاس کی میزبانی کی اور مہمانوں کی گرم جوشی سے پذیرائی کی۔
انہوں نے اجلاس کے انعقاد کے لیے منصوبہ بندی اور انتظامات کرنے پر تنظیم کے سیکریٹری جنرل اور سیکریٹریٹ کا بھی شکریہ ادا کیا۔
عراقچی نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ہم ایسی سرزمین پر جمع ہوئے ہیں جو قدیم زمانے سے مختلف تہذیبوں کے میل جول کا مرکز رہی ہے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالم اسلام کو اتحاد اور مکالمے کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کا قیام امت مسلمہ کی مشترکہ آواز بننے، باہمی یکجہتی اور تعاون کو مضبوط بنانے اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے عمل میں آیا تھا۔ ہمارے درمیان بات چیت کا راستہ کھلا رکھنا کمزوری نہیں بلکہ ہماری ذمہ داری ہے۔
بین الاقوامی قوانین پر یکساں عمل درآمد ضروری ہے
عراقچی نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کا منشور ایسے اصولوں پر مبنی ہے جو اقوام متحدہ کے منشور کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان میں ریاستوں کی خودمختار برابری، علاقائی سالمیت، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، تنازعات کا پُرامن حل اور دھمکی دینے یا طاقت کے استعمال سے گریز شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اصول کسی ایک ملک یا چند ممالک کے لیے مخصوص نہیں بلکہ ہم سب کے تحفظ کی ضمانت ہیں۔ تاہم، اگر ان پر منتخب انداز میں عمل کیا جائے تو ان کی اہمیت اور افادیت ختم ہو جاتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور اور سفارت کاری کے اصولوں پر کاربند رہا ہے۔ گزشتہ دو برس کے دوران بھی ایران نے سفارت کاری کا راستہ اپنائے رکھا، لیکن امریکہ نے اس کے برعکس جارحیت، دھمکیوں، قتل اور اقتصادی جنگ کا راستہ اختیار کیا اور بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کو کھلی نظرانداز کیا۔
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں تقریباً پانچ ہزار افراد شہید ہوئے
عراقچی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی فوجی جارحیت کے دوران تقریباً پانچ ہزار افراد شہید ہوئے، جن میں سیکڑوں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت نے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر اور دیگر اعلیٰ سیاسی و فوجی حکام کو قتل کیا۔
انہوں نے میناب میں 160 سے زائد طلبہ اور اساتذہ کی شہادت، لامرد کے ایک کھیل کے میدان پر کلسٹر بموں سے حملے، قشم میں پانی کو میٹھا بنانے والے ایک پلانٹ پر بمباری اور سیریک کے علاقے کوہستک میں ایک شادی کی تقریب پر حملے کو ایران کے خلاف امریکی اور صیہونی جنگی جرائم کی دستاویزی مثالیں قرار دیا۔
عراقچی نے کہا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت حقائق کو الٹ پلٹ کرکے اور مظلوم کو جارح اور جارح کو مظلوم بنا کر ان جرائم پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔
انہوں نے ان رکن ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل حالات میں ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی اسلامی تعاون تنظیم کے تمام ارکان سے مطالبہ کیا کہ وہ تنظیم کے بانی ارکان میں شامل ایک ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر ہونے والے حملوں کے خلاف مضبوط مؤقف اختیار کریں۔
ایران اپنے عوام اور مفادات کا دفاع کرے گا
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اپنے عوام، خودمختاری اور جائز مفادات کا دفاع کرے گا، تاہم اپنے حقوق کے دفاع اور امن کے قیام کی کوششوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم جنگ سے ہونے والے نقصانات کو جانتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم امن کو اہمیت دیتے ہیں۔
عراقچی نے مزید کہا کہ ایران کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہا بلکہ چاہتا ہے کہ تمام ممالک کے لیے حقوق اور ذمہ داریوں کا یکساں اطلاق ہو۔ یہ مسئلہ میدان جنگ میں حل نہیں ہوگا اور کسی ملک کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دے کر امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔
آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کے لیے ایران کا عزم
عراقچی نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کے لیے پرعزم ہے۔ یہ آبی گزرگاہ اسلامی تعاون تنظیم کے متعدد رکن ممالک کی توانائی کی ضروریات اور تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور 28 فروری 2026 تک مکمل طور پر کھلی اور محفوظ تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سے بحری آمدورفت میں پیدا ہونے والی بدامنی اور رکاوٹیں امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی جارحانہ کارروائیوں کا براہ راست نتیجہ ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ سابقہ غلطیوں اور جرائم کو دہرا کر سلامتی بحال نہیں کی جا سکتی۔ کسی ملک پر بمباری کرنے، اسے تباہ کرنے کی دھمکیاں دینے اور اس کا محاصرہ کرنے کے بعد یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ بحری آمدورفت معمول کے مطابق محفوظ ہو جائے گی۔
پاکستان اور قطر کی کوششوں سے معاہدہ طے پایا تھا
عراقچی نے کہا کہ سفارت کاری کے ذریعے پیش رفت ہو رہی تھی۔ پاکستان کی خیرخواہانہ کوششوں اور اسلامی تعاون تنظیم کے دونوں رکن ممالک، پاکستان اور قطر کی حمایت سے ایران اور امریکہ نے 17 جون کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
انہوں نے کہا کہ اس یادداشت کی شق نمبر 5 کے تحت ایران نے جہازوں کی محفوظ آمدورفت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ضروری انتظامات کرنے کا عہد کیا تھا۔ ایران نے اس عہد پر عمل درآمد کے لیے فوری طور پر سلطنت عمان کے ساتھ تکنیکی بات چیت بھی شروع کر دی تھی۔
عراقچی کے مطابق، صرف دو ہفتوں کے اندر بحری آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 60 فیصد تک بحال ہو گئی تھی۔
تاہم، انہوں نے کہا کہ امریکہ کے یک طرفہ اقدامات اور فوجی جارحیت نے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالی، جبکہ اس میں تنازعات کے حل کے لیے طے کیے گئے طریقہ کار کو بھی نظرانداز کیا گیا۔
آپ کا تبصرہ